بھارتی ریاستی انتخابات میں وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جیت کے پیچھے مبینہ دھاندلی بے نقاب ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ بھارتی جریدے دی وائر نے کہا ہے کہ انتخابات میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال انتخابی شفافیت پر سوالات اٹھاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریاست مغربی بنگال میں تقریباً ایک کروڑ ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے گئے۔ اس اقدام کے بعد لاکھوں شہری اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہوگئے۔ جریدے نے اسے جمہوری عمل کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔
مزید یہ کہ تضادات کی بنیاد پر 27 لاکھ افراد کو بھی ووٹر لسٹ سے نکالا گیا۔ اس کے علاوہ حتمی فہرست کے بعد 6 لاکھ نئے ووٹرز کے اندراج پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ تبدیلیاں انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ میں بھارتی رہنماؤں کے متنازع بیانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور آسام کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا شرما پر مسلم مخالف بیانات دینے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان بیانات نے سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران امریکہ کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کا ردعمل مسترد
دوسری جانب ریاست تامل ناڈو میں فلمی سپر اسٹار سے سیاستدان بننے والے شخص نے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ اس کی جیت کو ریاستی سیاست میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس سے بھارت کی سیاسی فضا مزید متحرک ہوگئی ہے۔
آخر میں دی وائر کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاستی انتخابات میں مودی سرکار کی جیت دھاندلی بے نقاب ہونے کے بعد سیاسی تنازع مزید بڑھ گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ الزامات مستقبل میں بڑے قانونی اور سیاسی بحران کا باعث بن سکتے ہیں۔ یوں بھارتی ریاستی انتخابات میں مودی سرکار کی جیت دھاندلی بے نقاب کا معاملہ بھارت میں شدید بحث کا موضوع بن چکا ہے۔